24 جون 2012 - 19:30

اسلام آباد نے افغانستان سےپاکستان کی سرحد پرہونےوالےحملوں پرردعمل ظاہرکیاہے۔

ابنا: پاکستان کےوزیرداخلہ رحمان ملک نے آج افغانستان سےپاکستان کےاندرہونےوالےحملےکےبعد اپنےافغان ہم منصب سےفون پرگفتگوکی اوران حملوں کی مذمت کی ۔پاکستان کےقبائلی علاقےدیربالا پرہونےوالےان حملوں ميں دس پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے۔ایسے عالم میں جب پاکستان کےصحافتی حلقےافغانستان سےحملہ کرنےوالوں کی ماہیت کےبارے میں مختلف موقف رکھتےہیں اورطالبان جیسےدہشتگردگروہ کی جانب سےبھی ان حملوں کاامکان ظاہرکرتےہيں ڈان نیوزکی ویب سائٹ چھاپہ ماروں کوپاکستان کےقبائلی علاقوں پرحملےکاذمہ دارقراردیتی ہے۔دودن قبل ایسوشیئٹڈ پریس نے افغان فوجیوں کےساتھ مل کرپاکستان پرمخفیانہ حملےکےلئےامریکی فوج کےمنصوبےکی خبردی تھی۔افغانستان سےپاکستان پرحملہ ایسا موضوع ہے جس پرگذشتہ برس سےدونوں ملکوں کےتعلقات میں کشیدگی پیداہوچکی ہے۔بعض مواقع پرپاکستانی حکومت اپنےسرحدی علاقوں پرانتہاپسندوں کےحملے یادہشتگردوں کاتعاقب کرتےہوئے افغان فوجیوں کےپاکستان کےسرحدی علاقوں میں داخل ہوجانےپراحتجاج بھی کرتی رہی ہےاوراس کےجواب میں افغان حکام ،پاکستان حکومت پر اپنےسرحدی علاقوں ميں میزائلی حملوں پرتنقیدکرتے رہے ہیں ۔پاکستان کےسرحدی علاقوں پر افغانستان کےحالیہ حملےکےبعد یہ نظریہ سامنےآیاہےکہ افغان جنگ میں پاکستان کی جانب سے مغربی ممالک کوتنہاچھوڑدیئےجانےکے امریکی الزام کےپیش نظر ممکن ہےوہائٹ ھاؤس قبائلی علاقوں میں طالبان کی پناہ گاہوں کوختم کرنے کےبہانےجنگ کوافغانستان سےپاکستان تک پھیلاناچاہتاہو۔ان حالات میں یہ اندازےتقویت پکڑ رہے ہيں کہ افغانستان سےپاکستان پرحملوں کانیاسلسلہ افغان فوج کےساتھ مل کرپاکستان پرحملہ کرنےکےامریکی منصوبےپرعمل کی شکل میں سامنےآیاہے۔اگرچہ وہائٹ ہاؤس نےاب تک اس منصوبے کامثبت جواب نہيں دیاہے لیکن امریکی صدرباراک اوبامہ کی جانب سےسی آئی اے کوپاکستان کےقبائلی علاقوں پرڈرون حملےتیزکرنے کےفرمان کےپیش نظرممکن ہے امریکہ محدود سطح پرسرحدی علاقوں میں زمینی حملوں پرپاکستان کاردعمل جاننےکےلئے ان علاقوں پرافغان فوج کے محدود حملوں کواپنےمنصوبےمیں شامل کرلیاہو۔ایسا نظرآتاہےکہ اگرپاکستان کےسرحدی علاقوں پر افغانستان کےحالیہ حملےافغان فوج کےہاتھوں اورامریکی پالیسی کےتناظرمیں ہوں گے تو اسلام آباد اور واشنگٹن کےتعلقات میں بحران پہلےسےزیادہ شدید ہوجائےگا۔یہ بحران جو مئی سن دوہزارگیارہ میں پاکستان کےشہرایبٹ آباد میں القاعدہ کےسابق سرغنہ بن لادن کےخفیہ ٹھکانےپرامریکی کمانڈوز کےحملوں اورڈرون حملوں کےساتھ شروع ہواتھا گذشتہ سال نومبرمیں اس ملک کےایک خفیہ فوجی اڈےپرنیٹوکےہیلی کاپٹروں کےحملےکےساتھ ہی اپنےعروج پرپہنچ گیا۔البتہ افغانستان کےاندرسے پاکستان کےسرحدی علاقوں پرحالیہ حملوں کےبارےمیں مختلف ومتضاد خبروں کی وجہ سے سیاسی تجزیہ نگاروں کی توجہ دہشتگردوں کی طرف کم ہی جاتی ہے۔......./169